9

13جولائی یوم شہدائے کشمیر تحریر :ظفر مغل

جولائی یوم شہدائے کشمیر تحریر :ظفر مغل
یہ 1924 کی بات ہے کہ اس وقت کے وائسراے ہند لارڈ ریڈنڈ کشمیر گئے تو اس مو قع پر سری نگر کے ایک درجن کے قریب کشمیری مسلمانوں نے ان کے سامنے 10نکات پر مشتمل ایک قرار داد پیش کی جس میں کشمیری کسانوں پر مالکانہ حقوق اور ملازمتوں میں کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی ، تعلیمی ترقی اور مساجد و خانقاہوں کی واپسی کا ذکرخاص طور پر کیا گیاتھا جس کے نتیجے میں وائسراے نے ان مطالبات پر غور کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی لیکن یہ کمیٹی کوئی بھی فیصلہ کر نے میں ناکام رہی ادھر مہاراجہ پر تاب سنگھ نے ان قراردادوں پر دستخط کرنے والے کشمیری مسلمانوں کو اس جرم کی پاداش میں سخت سزائیں دیں اور بعض کو ریاست بدر بھی کر دیا بعد ازاں 1925 ء میں مہاراجہ ہری سنگھ جب کشمیر کے مسند اقتدار پر بیٹھا تو 1927 ء میں ہری سنگھ کی حکومت نے ایک نئی پالیسی وضع کی جس کے تحت ریاست سے باہر رہنے والے مسلمانوں کو ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کے حق سے محروم کر دیا گیا جس کے جواب میں جنرل سمندر خان اور شیح عبدالعزیز جیسے مسلمانوں نے کشمیریوں کیلئے 50 فیصد ملازمتوں کے لئے قرار داد پیش کی مگر ہری سنگھ کی حکومت نے کوئی اثر قبول نہ کیا پھر 11 ستمبر 1930 ء کو شیح عبداللہ اور ایس پی کالج سر ی نگر کے 12طلبا نے مہاراجہ ہری سنگھ کو جو قرار دادیں پیش کیں۔ 28 جنوری 1931 ء کو ان کا انتہائی غیر تسلی بخش جواب دیا گیا چنانچہ مہاراجہ ہری سنگھ کے اس ناروا سلوک نے تعلیم یافتہ طبقے میں نفرت کے بیج بو دیئے اور اس نفرت نے ایک نئی سیاسی تحریک کو جنم دیاجس نے بعد میں ڈوگرہ آ مریت سے ٹکر لی، جموں میں بھی اس زمانے میں ؔغیر سیاسی جماعت مسلم ینگ مین ایسو سی ایشن کے نام سے قائم ہوئی جس کی قیادت ایک نوجوان وکیل چوہدری غلام عباس کے ہا تھ میں تھی اپریل 1931 ء کے ایک واقعہ نے تو کشمیر ی مسلمانوں کو انقلاب کے دوراہے پر لاکھڑا کیا اس دن عید کے موقع پر پو لیس کے ایک انسپکٹر نے شالیمار باغ کے امام کوکشمیری زبان میں خطبہ دینے کی اجازت نہ دی تو کشمیر ی مسلمانوں نے اس واقعہ پر احتجاج کیا جس پر حکومت نے جلسوں پر پابندی لگا دی ۔12 جون 1931 ء کو اس حکم کی خلاف ورزی میں جامع مسجد خانقاہ معلی میں جلسے ہوئے اور ایک جلسہ میں ایک پٹھان نوجوان عبد القدیر نے بڑی جو شیلی تقریر کی اور اعلان کیا کہ ہم ڈوگرہ کی ہر اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ 25 جون 1931 ء کو ڈوگرہ حکومت نے اس جرأت مند نو جوان کو گرفتار کر لیا جس کے نتیجے میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف اور تحریک آزادی کشمیرکے حق میں فلک شگاف نعرے فضا میں ایمان پرور اور پر کیف سماں باندھ رہے تھے اور کشمیر ی عوام کی تحریک آ زادی نے ڈوگرہ خاندان کے فلک بو س محلات کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا سر زمین کشمیر کا ذرہ ذرہ سحر آ شنا ہو ا اور سرور میں ڈوبنے لگا اور پھر ہر ی سنگھ حکومت کو چاروں طرف سے خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہوئی سنائی دینے لگیں اہل کشمیر کے مدتوں سے خوابیدہ جذبات نے بھر پور انگڑائی لی اور کشمیریوں نے آ نکھیں کھول لیں تو انہیں یہ احساس ہواکہ وہ جابرانہ زنجیروں کے زبر دست حصارمیں جکڑے ہوئے ہیں چنانچہ مہاراجہ نے کشمیریوںکے ابھر تے ہوئے جذبات کو بھانپ کر اپنی آ مریت کو بچانے کیلئے فوج اور پولیس کو پوری ریاست میں پھیلا دیا اور اپنے ظالمانہ ہتھکنڈوں کو اور بھی زیادہ سخت کر دیا جبکہ جون1931 ء میں ایک جلسہ کے مقررین کو مہاراجہ کے خلاف لب کشائی کی پاداش میں پابہ زنجیر کر لیا گیا لیکن مہاراجہ کی توقعات کے بر عکس عوام کے جذبات اور بھی بھڑک اٹھے چونکہ انہوں نے فر عون و ہامان کے اس جانشین کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم صمیم کر لیا تھا اگر چہ آزادی کی تڑپ کئی بر س پیشتر کشمیر ی مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہو چکی تھی لیکن اس کا عملی اظہار 13 جولائی 1931 کو عبد القدیر کے مقدمے کے فیصلے کے دن ہو ا 13 جولائی1931 ء کوسنٹرل جیل کے سامنے تقریبا 5 ہزار پر جو ش کشمیری مسلمان جمع ہو گئے اور جانبازوں کے جذبات اس روز اس قدر مچلے جا رہے تھے کہ ان کی آنکھوں میں بے باکی کی چمک اور بھی تابناک ہو رہی تھی مجسٹریٹ ، منصف اور سپریٹنڈنٹ کے آ تے ہی ہجوم اللہ اکبر ، اسلام زندہ باد اور عبد القدیر زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگانے کا سلسلہ پر جوش انداز میں شروع کر دیا اور مہاراجہ کے توپخانے کا منہ کھل گیا، سنگینیں تن گئیں ،تلواریں لہرائیں اور آ سمان ساکت وزمین حیران تھی کہ ایک طرف نہتے اور بے بس عوام اور دوسری طرف ڈوگرہ شاہی افواج اسلحہ سے مزین لیکن کر ائے کے ٹٹو تحریک آ زادی کشمیر کے پر وانوں کا مقابلہ جم کرنہ کر سکے کشمیری جیالوں نے اپنے ساتھیوں کو سری نگر جیل سے رہا کر لیا اور پھر جیل کو نذر آ تش کر دیا اور اس دوران ڈوگرہ پولیس نے نہتے عوام پر پندرہ منٹ تک فائرنگ جاری رکھی اور مشتعل ہجوم پر پتھروں اور اینٹوں کا استعمال کیا اس گھمسان کی جنگ میں 21 آ زادی کے متوالے جابر سامراج کی گولیوں کی بھینٹ چڑھ کر جام شہادت نو ش کر گئے اور بے شمار زخمی ہوئے متوالوں نے زخمیوں اور شہیدوں کو چار پائیوں پر جلوس کی شکل میں جامع مسجد تک پہنچایا جلوس جامع مسجد کیا پہنچا کہ سارا سری نگر وہاں جمع ہو گیا میر واعظ کشمیر حضرت مو لا نا محمد یوسف شاہ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ حکومت شہدا کے جنازے میں مسلمانوں کو شر کت سے روکنا چاہتی ہے مگر مہاراجہ اور اسکی حکومت کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی اس روش سے باز آ جائیں کیو نکہ مسلمان شہدائے کشمیر کواسلامی تعلیمات کے مطابق پورے اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کرناچاہتے ہیں ہم مزار شہدا پر ایک منظم جلو س کی صورت میں جائیں گے مسلمانوں کے جذبہ جہاد اور اتحاد کے سامنے با لا ٓ خر مہاراجہ کو جھکنا پڑا اور مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں اس ماتمی جلوس میں شرکت کی جو کشمیر کی تاریخ میں اپنی مثال آ پ ہے بعد ازاں شہدا کو جنگ احد کے شہدا ء کی مانند ایک قبر میں2-2کر کے سپر د خاک کر دیا گیا، ان شہیدوں کے لہو نے ڈوگرہ شاہی استبداد کو یہ باور کر ا دیا کہ کشمیر ی مسلمان حصول آزادی کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی بھی پیش کر سکتے ہیں ان شہداء کی قربانی کے حوالے سے 13جولائی کا دن تحریک آزادی کشمیر کا یوم اول ہے اسی دن شہدائے کشمیر نے اپنے گرم لہو سے تاریخ آزادی کا پہلا ورق تحریر کیا آج کے دن جس جذبہ آزادی کو انہوں نے اپنی جان دے کر زندہ کیا وہ غیر فانی ہے اور غیر فانی رہے گا آزادی کی جو آواز 13جولائی 1931ء کے دن ابھری تھی کشمیر کے طول و عرض میں آج بھی گونج رہی ہے بلکہ اس وقت تک گونجتی رہے گی جب تک کہ کشمیری عوام آزادی کی نعمت سے ہمکنار نہیں ہو جاتے۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا جبر و استبداد اور ظلم وستم ماہ وسال کی راہوں میں گرد بن کراُڑ جاتے ہیں لیکن شہیدوں کا لہو افق پر ان شہداء کی یادوں کو لیکر آتا رہے گا اور کشمیریوں کے لہو میں انگارے بھر تا رہے گا اور آزادی کا جذبہ اہل کشمیر کو حقیقی آزادی کی نوید سنا رہا ہو گا اور پھر شہیدوں کی روحیںبھی مطمیئن ہونگی اور تاریخ حیات کو ایک نیا سبق ملے گا کہ باطل اپنی کرتوتوں کے ساتھ بھی میدان کا ر زار میں بھی شکست فاش کھاتا ہے اور آزادی وطن پر قربان ہونے والے جواں مرد بآلاخر فتح و کامرانی سے ہمکنار ہوتے ہیں مقبوضہ کشمیر میں اب بھی قابض 7 لاکھ سے زائدبھارتی افواج و سیکیورٹی فورسز نے ڈوگرہ شاہی سے بھی زیادہ بد تر حالات پیدا کر رکھے ہیں جبکہ دوسری طرف پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات اور پاکستان کی طرف سے بھارت کو رعایتیں دینے کی آڑ میں وزرا ئے خارجہ کی سطح پر مذاکرات ہوتے رہے ہیں ۔اب بابا گورو نانک کے جنم دن کے موقع پر کرتار پور راہداری کھولنے کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم عمران خان اور نریندر مودی کے اکھٹے ہونے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جبکہ اب کشمیری قیادت کی طرف سے دو طرفہ مذاکرات میں کشمیریوں کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ ہو رہا ہے ان حالات میں شہدائے کشمیر 13جولائی 1931ء اور اسکے بعد سے اب تک کے ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہداء کو صحیح معنوں میں خراج عقیدت پیش کرنے کا اصل اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ کشمیر کی وحدت و آزادی کے لئے اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے کہ کشمیری عوام مادر وطن کی آزادی کے لئے شہدائے کشمیر کی تقلید میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور بالآخر وہ دن بھی ضرور آئے گا جب مظلوم کشمیری عوام اقوام متحدہ کی پاک بھارت کی طرف سے تسلیم کر دہ 5جنوری 1949؁ء کی قرار داد کے مطابق حق خود ارادیت کے مسلمہ اصول کے تحت اپنا پیدائشی حق استعمال کر کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریںگے اور پھر اس خطے میں جہاں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو گا وہاں کشمیر ی عوام بھی اپنی آزادی کے ساتھ اس خطے کی ترقی امن و خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئیںگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں