30

آزادکشمیرمیں فروغ سیاحت کیلئے اقدامات،کشمیر پریس کلب میرپور کے صحافیوں کا دورہ وادی نیلم

آزادکشمیرمیں فروغ سیاحت کیلئے اقدامات اور صحافیوں کا دورہ وادی نیلم تحریر : ظفر مغل
بلا شبہ سیاحت دنیا میں ایک بڑی صنعت کا درجہ رکھتی ہے اور بہت سے ممالک کی معیشت کیلئے اسے بنیادی ستون کی بھی حیثیت حاصل ہے جسکی وجہ سے یہ دنیا کی انتہائی تیزی سے ترقی کرنیوالی صنعتوں کی صف میں شامل ہوچکی ہے۔ ریاست جموں وکشمیر میں سیاحت کے بے تحاشا پوٹینشل ہونے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ بھارتی افواج کے جابرانہ تسلط، ظلم و جبر اور بارود کی بُوکے بُرے حالات و اثرات نے سیاحت کی صنعت کو بتاہی کا شکار کر رکھا ہے لیکن ماضی میں ریاست کے آزاد علاقے میں 10 اضلاع پر مشتمل حکومت آزادکشمیر اور محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کے ذمہ داران کی عدم توجہی کے باعث یہ اہم صنعت بُرے حالات کا ہی شکار رہی۔ حالانکہ ذرا سی توجہ سے یہ صنعت آزاد خطہ کی معاشی نشو ونما کی رفتار کو کئی گنا تیز کر کے اسے حقیقی معنوں میں ایک ماڈل اسٹیٹ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی کہ خطہء کشمیر کو دنیا میں جنت نظیر کہا گیا ہے اور جسطر ح پاکستان میں لاہور کو اس حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اکثر کہا جاتا ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا ۔اسی طرح ریاست کے جنت نظیر خطہ آزادکشمیر کی خوبصورت ترین وادی نیلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس نے وادی نیلم نہیں دیکھی اس نے دنیا میں آنے کا مقصد ہی نہیں پایا۔ جبکہ وادی نیلم کو مشرق کا سوئیٹزر لینڈ اور سیاحوں کیلئے’’ جنت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔دریائے نیلم کے دونوں اطراف میں دو سو سے زائد دیہاتوں پر پھیلی یہ خوبصورت وادی نیلم سطح سمند ر سے2500 فٹ سے 20000 فٹ تک فلک بوس قیمتی جنگلات اور معدنیات کے خزانے اپنے اندر سموئے ہوئے پہاڑوں پر مشتمل 248 کلو میٹر علاقے کی وادی میں وادی لیسوا، جاگراں، سرُگن، لوات اور وادی گریس مشہور و سحر انگیز ہیں۔اور سیاحوں کی توجہ اپنی طر ف کھینچتی ہیں۔ نیلم ویلی میں آسمان سے باتیں کرتے سرسبزوشاداب پہاڑ اور ان میں چھُپی قیمتی معدنیات کے ذخائر قیمتی جڑی بوٹیاں، پن بجلی کے شفاف نالوں‘ میٹھے پانیوں کے چشموں، پہاڑوں اور گلیشئیرز سے بننے والی خوبصورت آبشاروں ، دل موہ لینے والی جھیلوں، دریائے نیلم کے گنگناتے ٹھنڈے پانی اور دیودار، کائل ، چیڑ، اخروٹ اور دیار کے قیمتی درختوں سمیت موسمی فروٹ سے لدے قیمتی درختوں کے جھرمٹ دنیا کی اس جنت نظیر وادی کا خاصہ ہیں جبکہ بر صغیر پاک و ہند کے معروف اولیاء کرام کے مزارات مقدسہ کے علاوہ بدھ مت اور ہندو مت کے مذہبی مقامات شاردا میٹھ اور ہزاروں سال قبل ریاست میں شاردا یونیورسٹی کے آثار قدیمہ بھی دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہیں۔ ریاست میں للتادیتیہ دور کی تاریخی شاردا یونیورسٹی کے آثار قدیمہ بھی دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہیں ۔یقینی طور پر وادی نیلم دنیا میں قدرت کا ایک حسین شاہکار ہے اس کے قدرتی طور پر انتہائی خوبصورت، دلفریب اور دلکش نظارے دیکھ کر انسان محو حیرت رہ جاتا ہے کہ وہ جاگتی آنکھوں سے حسین و جمیل نظارے دیکھ رہا ہے۔گذشتہ دنوں آزادکشمیر کی سیکرٹری سیاحت و آثار و قدیمہ اور اطلاعات محترمہ مدحت شہزاد کی دعوت پر آزادکشمیر کے سب سے بڑے کشمیر پریس کلب میرپور کا ایک 13 رکنی وفد صدر کلب سجاد جرال کی قیادت میں اس جنت نظیر وادی نیلم ضلع کے 4 روزہ دورہ کیلئے میرپور سے جب مظفرآباد پہنچا تو وہاں ریسٹ ہائوس میں دیئے گئے عشائیہ میں سیکرٹری صاحبہ نے اپنی ٹیم ڈی جی اطلاعات راجہ اظہر اقبال اورکوآرڈ ینیٹر ٹورمرزابشیر جرال ڈپٹی ڈائریکٹر کے ہمراہ استقبال کیا وادی نیلم کے دورہ کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے علاوہ آزادکشمیر میں فروغ سیاحت اور آثار قدیمہ کی بہتری اور تزین و آرائش کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت آزادکشمیر نے 2019 ؁ء کو سیاحت کا سال قرار دیکر پہلی کشمیر آرکیالوجی کانفرنس میرپور میں منعقد کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور پاکستان بھر سے آثار قدیمہ کے معروف ماہرین کو کانفرنس میں بلا کر عملی طور پر آگے بڑھنے کے مشن گو فاسٹ ٹریک پر ڈال دیا ہے۔جبکہ ریاستی اخبارات اور صحافیوں نے آزاد کشمیر میں سیاست کے فروغ کیلئے ہمارے اقدامات کو اجاگر کرنے میں اہم کردارادا کیا ہے ۔ راقم سمیت سابق صدر ڈسٹرکٹ بار میرپور محمد ریاض انقلابی کی درخواست پر فل کورٹ سماعت کے بعد سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کے حکم پرآزادکشمیر بھر کے تمام اضلاع سے ایک جامع پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے تاریخی مساجد، قلعوں، مندروں ، گردواروں ، باولیوں اور ہزاروں سال قدیم دنیا کی معروف شاردا یونیورسٹی و شاردا پیٹھ کو محفوظ بنا کر تزئین و آرائش کرنے کی غرض سے 57 آثارہائے قدیمہ کو دریافت کر کے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے اور مردو خواتین سمیت 137 اہلکاروں پر مشتمل ٹورازم پولیس فورس کو ابتدائی طور پر نئی 12 گاڑیاں اور 56 موٹرسائیکل بھی فراہم کرتے ہوئے آزادکشمیر کے داخلی و سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی سہولت و رہنمائی کیلئے 1422 کی ہیلپ لائن بھی متعارف کروا دی گئی ہے۔ اور مظفرآباد ایئرپورٹ کو بھی دوبارہ اپریشنل کرنے کیلئے چیف سیکرٹری آزادکشمیر مطہر نیاز رانا نے عملی اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں جبکہ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے سیاحتی فروغ کیلئے فاسٹ ٹریک حکمت عملی طے کرتے ہوئے ایک جامع پالیسی ویژن کے تحت سیاحتی شعبہ میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ون ونڈو اپریشن سمیت آزادکشمیر کابینہ سے سیاحتی پالیسی کی منظوری اور منگلا ڈیم اور نہر اپر جہلم پر ٹورازم ریزارٹ بنانے اور منگلا ڈیم میں واٹر سپورٹس کی منظوری کروانے کے علاوہ سیاحتی فروغ کیلئے وزیر سیاحت مشتاق منہاس کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے علاوہ ازیں وزیراعظم آزادکشمیرنے سیاحت کے فروغ کیلئے 27 ستمبر کو عالمی یوم سیاحت کے موقع پر ضلع مظفرآباد میں سطح سمندر سے2924 فٹ بلند پیر چناسی کے خوبصورت مقام پر پیرا گلائیڈنگ کپ کا انٹرنیشنل ایونٹ منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جس میں 50 ممالک کے پیرا گلائیڈرزکی شرکت کے علاوہ ایک لاکھ سیاحوں کی آمد متوقع ہے اگلی صبح صحافیوں کے وفد نے آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی جہاں وادی نیلم سے تعلق رکھنے والے سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے اپنے حلقہ انتخاب کے سیاحتی و مطالعاتی دورے کیلئے آمد پرصحافتی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں اسمبلی اجلاس میں شرکت پر بھی خوش آمدید کہا جسکے بعد پری مون سون کی پہلی بارش کے باوجود وفد مظفرآباد اسمبلی سے وادی نیلم کیلئے روانہ ہوا۔ اورراستے دریائے نیلم کے کنارے پہلا پڑائو ٹیٹوال سیکٹر میںواقعہ LOC پر چلہانہ کراسنگ پوائنٹ پر ہوا جہاں بھیگے موسم میں گرما گرم پکوڑوں سے صحافیوں اور پاکستان بھر سے آئے ہوئے سیاحوں نے خوب انجوائے کرتے ہوئے دریائے نیلم کے اُس پار مقبوضہ کشمیر میں آدھے چلہانہ گائوں کے مکینوں اور بھارتی فوجیوں کو بھی چلتے پھرتے ہوئے دیکھ کر کچھ دیر کیلئے خوف کے سائے بھی سروں پر منڈلانے لگے اس دوران مقامی آبادی کے ذمہ داران نے بتایا کہ اس کراسنگ پوائنٹ سمیت جموں وکشمیر کے سینے پر کھینچی گئی خونی لکیر لائن آف کنٹرول کی وجہ سے منقسم کشمیری خاندانوں کے باہمی ملاپ کیلئے دیگر قدرتی راستے بھی کھول کر انہیں آپس میں ملنے کے مواقع مہیا کرنے چاہیں۔ بہر حال نصف گھنٹہ تک وہاں رکنے کے بعد دوبارہ صحافی اپنی گاڑی میں سوار ہو کر دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ بل کھاتی ہوئی شاہراہ نیلم کے ذریعے اپنے ٹور پروگرام کے مطابق جب 515 بلیّن روپے کی لاگت سے زیر تکمیل نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کے قریب پہنچے ۔یہ منصوبہ آزادکشمیر کے ضلع میرپور میں منگلا ڈیم کے ذریعے 1100 میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کے بعد آزادکشمیر کا دوسرا بڑا پن بجلی پیداوار کا 969 میگا واٹ کا منصوبہ ہے جس کی تکمیل کیلئے دریائے نیلم کے پانی کو بلند و پہاڑوں کے نیچے سے دریائے جہلم تک لے جانے کیلئے دنیا کی چھٹی بڑی ٹنل (سرنگ) 42.3 میل تعمیر کی گئی ہے اور اس منصوبہ سے مستقبل میں 1040 میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکے گی۔نوسیری پہنچے تو ہمیں منگلا ڈیم اور بعدازاں منگلا توسیع منصوبہ کے متاثرین کے اب تک کے دیرینہ مطالبات کی فلم ہمارے دماغ کی پردہ سکرین پر چلنے لگی کہ واپڈا والوں نے جو منصوبے میرپور میں ادھورے چھوڑے ہیں اور اضافی کنبہ جات سمیت معاوضوں کی ادائیگیوں کے معاملات سپریم کورٹ آزادکشمیر کے فیصلوں کے باوجود پاکستان کے روشن مستقبل اور ترقی و خوشحالی کے وسیع تر مفاد کیلئے دوہری عظیم قربانیوں کے بعد بھی تاحال واپڈا توہین عدالت کا مرتکب ہوتے ہوئے معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیری حربے اختیار کیے ہوئے ہے اور ایسی ہی باز گشت نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کے متاثرین سے سن کر میرپور کے صحافیوں کے چہروں پر بھی وقتی طور پر افسردگی غالب آگئی اور مقامی آبادی کے مطالبات اور مقامی پڑھے لکھے نوجوانوں کو نظر انداز کرنے پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں اور واپڈا حکام کو ماضی کی تاریخ دوہراکر مسائل اور نفرت بڑھانے کی بجائے جائز مطالبات کے حل کی راہ اپنا کر نیک نامی اپنے نام کرنی چاہیے۔ کیونکہ آزاد خطہ میں پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کیلئے 9 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا پوٹینشل موجود ہے اور اس وقت 2361 میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جبکہ آزادکشمیر کی ضرورت صرف 350 میگا واٹ ہے۔ اور آزاد خطہ سے 2100 میگا واٹ بجلی پاکستان کے نیشنل گرڈ میں بھیجی جارہی ہے۔ اور کشمیری عوام پاکستان کی بہتری، استحکام اور روشن مستقبل کیلئے ہی اپنے آبائو اجداد کی قبروں، قیمتی زمینوں اور اپنے پانیوں کی قربانی دے رہے ہیں۔نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کا نظارہ کرنے کے بعد سورج کے بلند و بالا پہاڑوں کی اوٹ میں چھپنے سے قبل ہی صحافیوںکا وفد کنڈل شاہی میں کچھ دیر رکھنے کے بعد جاگراں ہائیڈرل پاور پراجیکٹس کو جانیوالی سڑک پر کٹن گائوں کے پل پر پہنچے جہاں گذشتہ سال فیصل آباد کے میڈیکل کے طلباء سیاحوں کو حادثہ پیش آیا تھا جہاں اب حکومت نے پہلے سے بہتر اور مضبوط لوہے کا پل بنادیا ہے جس پر کھڑے ہو کر صحافیوں نے جاں بحق طلباء کی مغفرت کیلئے دعا کی اورگروپ فوٹو اور سیلفیاں بھی بنائیں ۔ آدھ گھنٹہ قیام کے بعد دس منٹ کی مسافت پر واقع کٹن ریسٹ ہائوس میں رات قیام کیا اور رات کو موسم سرد ہونے کے باعث سب کو کمبل اوڑھ کر رات بسر کرنا پڑی۔ اگلی صبح ناشتے کے بعد وادی نیلم کے دارالحکومت اٹھمقام کی طرف رخت سفر باندھا اور کیرن کے تاریخی مقام سے ہوتے ہوئے اٹھمقام پہنچے جہاں پریس کلب کے صدر جاوید اسد اللہ اور پریس فائونڈیشن کے ممبر حیات اعوان نے ان وفد کا استقبال کرتے ہوئے ڈیرہ شمیم اور تاریخی کشمیر ہوٹل میں ان کی طرف سے ٹی پارٹی سے لطف اندوز ہوئے۔جبکہ میرپور سے تعلق رکھنے والے فزیوتھراپسٹ محبوب بٹ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹھمقام کا دورہ کروایا۔ اور مقامی فروٹ سے وفد کی تواضع کی۔ کٹن ریسٹ ہائوس میں قیام کے دوران مقامی عمائدین سے ملاقات میں معلوم ہوا کہ کنڈل شاہی پاور ہائوس کی اپ گریڈیشن 1 سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکی ہے اور سیکرٹری برقیات آزادکشمیر وعدے کے مطابق 30 جون تک اس پاور ہائوس سے بجلی کی پیداوار شروع کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ اٹھمقام سے مغرب کی جانب وادی نیلم کی سب سے بلند اور خوبصورت جگہ رتی گلی جھیل ہے جہاں پہنچنے کیلئے پیدل راستہ ذرا کٹھن ہے جبکہ فورویل ڈرائیور پرانی جیپوں کے ذریعے بھی سیاح وہاں پہنچ سکتے ہیں لیکن رتی گلی جھیل کے پر کیف نظاروں سے سیاحوں کا لطف اندوز ہونا بھی ممکن نہیں۔ اگلے دن صبح کٹن ریسٹ ہائوس سے وفد نے ٹور پروگرام کے مطابق مظفر آباد سے 136 کلو میٹر دور وادی نیلم کے سب سے قدیم تاریخی مقام ہزاروںسال پرانی شاردا بدھسٹ یونیورسٹی اور LOCسے 1 کلو میٹر پہلے مشہور ٹمپل شادرا پیٹھ کا رخت سفر باندھا اور 4 گھنٹے کی مسافت کے بعد جب شاردار پہنچے تو دریائے نیلم میں موٹر بوٹس کے نظاروں اور قدرت کی عظیم کرشمہ سازی و خوبصورتی دیکھ کر ساری تھکن دور ہوگئی اور جب تک ہم کچھ لمحے وہاں گزارتے اسی اثناء میں سیکرٹری آثار قدیمہ و سیاحت و اطلاعات محترمہ مدحت شہزاد کی قیادت میں اقلیتی امور کے رکن قومی اسمبلی پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست ڈاکٹرر میش کمار و انگوانی سمیت صدر ہندو کونسل گوپال گھوانی، ایڈوائزر ہندو کمیونٹی پریم تلریجا، جنرل سیکرٹری پرشوتم رامانی اور راجہ آمر گل منگلانی پر مشتمل وفد شاردا یونیورسٹی پہنچ گیا اور جب صحافیوں کا وفد بھی شادرا یونیورسٹی کے بلند قدیمی تاریخی مقام پر پہنچا تو سیکرٹری سیاحت محترمہ مدحت شہزاد اور ڈی جی ارشاد پیر زادہ نے ہندو وفد سے صحافیوں کا تعارف کروایا جس کے دوران معلوم ہوا کہ تقسیم برصغیر کے 72 سال بعد یہ پہلا ہند ووفد ہے جودنیا کی خوبصورت ترین وادی نیلم میںہندو دھرم کے ماننے والوں کے مقدس مقام پر شاردادیوی کے درشن اور شادرا پیٹھ کی یاترا کیلئے وہاں پہنچا ہے۔شاردا یونیورسٹی اور شاردا پیٹھ کے حوالہ پاکستان ہندو کونسل کے زعماء اور قدیم تاریخی کتب کی ورق گردانی سے جو معلومات دستیاب ہوئیں ان کے مطابق اس خوبصورت وادی کو زمانہ قدیم میں کشمیر اپورہ ووسینی اور شاردا دیش بھی کہا جاتا رہا ہے جبکہ پہلی صدی عیسوی میں ہندو مت اور بدھ مت کے بڑے بڑے لکھاریوں کی یہاں 500 کتب کی لائبریری قائم کی گئی دنیا کے مشہور فلسفیوں ادھی شکرا اوررامن اوجچرا کے مطابق اسے بدھ و ہندو مذہب کے پیروکار بڑا رامنز ودننا سوترا کا نام بھی دیا گیا جبکہ علم و دانش کی دیوی سراسوتی شاردا دیوی کے نام پرمتحدہ ریاست کشمیر میںللتا دیتیہ کے دورمیں ہندو مذہب کے بڑے پیروکاروں کے دبائو پر سطح سمندر سے 11 ہزار فٹ بلندی کے اس تاریخی مقام پر شاردار بدھسٹ یونیورسٹی اور شارداپیٹھ کی بنیاد رکھی جو کہ سرینگر سے 70میل اور کپواڑہ سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔ جبکہ زمانہ قدیم میں مندر کے قریب مدھومتی مقدس تالاب تھی تھاجہاں یاتری اشنان کیا کرتے تھے۔ تقسیم برصغیر سے قبل کشمیری پنڈتوں سمیت پورے برصغیر سے 2 ہزار سال قبل قدیم ہندوستان کے مہاراجہ اشوک اعظم نے ہندو کمیونٹی باقاعدگی سے شاردار مندر پر حاضری دیا کرتی تھی بلکہ بدھ مت کیلئے بھی قابل احترام ہونے کے باعث یہ مقدس مقام چین، جاپان، سری لنکا، تھائی لینڈ اور کوریا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز تھا اور ماضی میں یہاں جشن نو روز اور بیساکھی تہوار ایک ساتھ منایا جاتا رہا ہے جس میں مذہبی تفریق سے بالا تر ہو کر تمام مذاہب کے کشمیری باشندے انتہائی جوش و خروش سے باہم ملکر موسم بہا ر کا خیر مقدم کرتے تھے جبکہ انگریز سامراج کے زیر تسلط پورا برصغیر مذہبی تنائو کا شکار رہنے کے باوجود وادی کشمیر مذہبی ہم آہنگی اور احترام انسانیت کے زریں اصولوں پر کاربند تھی۔ مورخین کے مطابق شاردا میں ہی 9 ویں صدی میں قدیم دیوتا ناگری رسم الخط شارداتخلیق کیا گیا۔ زمانہ قدیم میں جنوبی ایشیاء وسطی ایشیاء اور چین سے علم کے پیاسے طالبعلم یہاں کا رخ کرتے تھے۔ ڈاکٹر رمیش کمار جہاں ہندو کمیونٹی کے قومی اسمبلی میں نمائندہ ہیں وہاں قومی و بین الاقوامی سطح پر ایک اچھے لکھاری بھی ہیں نے شاردا یونیورسٹی، کیرن ریسٹ ہائوس اور پھر مظفرآباد میں بھی میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ تقسیم برصغیر کے 72 سال بعد پہلی مرتبہ دنیا میں علم و دانش کی عظیم شاردا یونیورسٹی اور شاردہ پیٹھ میں پہنچ کر یاترا سے روحانی تسکین حاصل ہوئی اور LOC کی دوسری جانب کیرن کی مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی تو دل کو سکون ملا۔ محبت کے رشتے لازوال ہوتے ہیں اور آزاد حکومت نے اسے سچ کر دکھایا ہے جبکہ محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کی طرف سے اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت پر ہم حکومت و محکمہ کے شکر گزار ہیں۔دنیا کی خوبصورت ترین وادی نیلم میں واقع علم و دانش کی ہندو دیوی شاردا سے منسوب شاردا پیٹھ کا تاریخی مقام زمانہ قدیم میں ایک خاص و نمایاں تعلیمی درسگاہ تھا جہاں دنیا بھر سے لوگ علم کی پیاس بجھانے آتے تھے ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت نے بابا گرونانک کے جنم دن پر کرتار پور راہداری اور آزادکشمیر کی قیادت نے شارداپیٹھ کی بحالی کیلئے عملی اقدامات اٹھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس خطے میں امن و امان کے قیام، علاقائی سلامتی، مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے اس لیے بھارتی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ان مثبت اقدامات کے جواب میں مسلمانوں کے تاریخی مذہبی مقامات کو بھی بحال کر کے خیر سگالی کے جذبے کا مظاہرہ کرے کیونکہ آزادکشمیر میں ہندو آبادی صفر ہونے پر بھی حکومت نے ہندوئوں کے مقدس مقام شاردا پیٹھ کی بحالی کیلئے پاکستان ہندو کونسل سے تعاون کر کے قابل تقلید مثال قائم کی ہے جس سے عنقریب شادرا پیٹھ ایک ایسا رول ماڈل مقدس مقام بن کر سامنے آئے گا جس سے عالمی برادری جان سکے گی کہ کیسے اقلیتی مقامات کی حفاظت کی جاتی ہے ڈاکٹر رمیش کمار نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یورپ عالمی جنگوں کے باوجود ایک ہوسکتا ہے شمالی و جنوبی کوریا شدید تنازعات اور اختلافات ختم کر کے تعلقات معمول پر لاسکتے ہیں اور دیوار برلن گر سکتی ہے تو کشمیریوں کو منقسم کرنیوالی خونی لکیر کیوں ختم نہیں ہوسکتی جبکہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ بھی بھارت کیلئے آئینہ ہے اس لیے نریندر مودی سیکولر بھارت کے دعوے کو سچ کر دکھانے کیلئے اب کچھ عملی اقدامات بھی اٹھائیں۔ انہوں نے مزید رائے دیتے ہوئے بتایا کہ میں چند روز قبل ہی سوئیٹزر لینڈ سے واپس آیا ہوں مگر آزادکشمیر بالخصوص وادی نیلم کے مقابلے میں سوئیٹزر لینڈ کچھ بھی نہیں صرف انہیں ڈویلپ کرنے کی ضرورت ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے مذہبی عقیدت و احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے فیتھ ٹورازم کو پروان چڑھایا جائے۔ شاردا کے پر فضا اور سحرانگیز مقام سے آگے کیل، اڑنگ کیل اور آزاد علاقے کا آخری مقام تائو بٹ بھی سیر و سیاحت کے شوقینوں کیلئے دلچسپی کے اہم مقامات ہیں مگر دشوار اور خراب راستے اور سڑک کی عدم تعمیر بیشتر سیاحوں کی دلی خواہش کے راستے کی دیوار بن جاتے ہیں بالخصوص فیملیز کے ساتھ جانیوالوں کی تمنائیں دل میں ہی دم توڑ جاتی ہیں اسی باعث میرپور کے صحافیوں کے قافلہ نے بھی شاردا سے ہی واپسی میں عافیت جانی چونکہ راقم 2012-13 میں وزیراعظم آزادکشمیر کے ہمراہ پریس سیکرٹری دو مرتبہ فور ویل ڈرائیو جیپوںکے ذریعے شاردا سے آگے لائن آف کنٹرول پر آخری مقام تائو بٹ تک سفر کر چکا ہے اور شاردا سے واپسی پر راستے میں دوران سفر وفد کے دیگر اراکین کو کیل، اڑنگ کیل اور تائو بٹ تک کے پر فضا مقامات کے بارے میں بریف کیا کہ ان علاقوں میں جنگلات خوبصورت ریسٹ ہائوس چیئر لفٹ کی سیر سے قدرتی حسن کے دلفریب نظارے اس جنت نظیر وادی کے ضرب المثل کو قیام اور بھی تقویت پہنچاتے ہیں جبکہ تائو بٹ میں دنیا کی لذیز ترین مچھلی ٹرائوٹ کی بھی موجودگی قدرت کا ایک انمول خزینہ ہے جس سے ٹوراراکین کو استفادہ نہ کرنے کا یقینا رنج رہے گا۔ ان علاقوں کے پہاڑوں میں دیگر قیمتی معدنیات کے علاوہ دنیا کا قیمتی پتھر روبی بھی بکثرت پایا جاتا ہے جبکہ موسم سرما میں زیادہ تر پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ لینے اور تمام راستے برف سے بند ہوجانے کے باعث عوام اٹھمقام کی طرف اور نیچے مظفرآباد تک منتقل ہوجاتے ہیں۔ تائو بٹ میں محکمہ فشریز والوں نے دنیا کی نایاب لذیر ٹرائوٹ مچھلی کی افزائش نسل کیلئے ٹرائوٹ فش فارم بھی قائم کر رکھا ہے مچھلی کی اس نایاب نسل ٹرائوٹ اپنی بے پناہ لذت و طاقت کیلئے مشہور ہے اور دریا کی مخالف سمت میں تیرنا اسکی خاصیت ہے علاوہ ازیں ماضی میں وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف اور مریم نواز کے دورہ کیلئے دوران قیام بطور خاص دیار کی لکڑی سے بنایا گیا ریسٹ ہائوس بھی فن تعمیر کا ایک قابل دید نمونہ ہے۔ اب موجودہ حکومت نے امسال وادی نیلم میں 15 لاکھ سے زائد سیاحوں کی سیزن میں آمد اور رواں سال کو سیاحت کا سال قرار دینے کے بعد اٹھمقام سے تائو بٹ تک کا رپیٹڈ روڈ کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے جو رواں سال میں آئندہ سیاحتی سیزن کے آغاز سے قبل ہی مکمل ہوجائیگی اور اسطرح مظفرآباد سے تائو بٹ تک 203 کلو میٹر سفر میں آمد و رفت میں لاکھوں سیاحوں سمیت پاکستان کے اقلیتی یاتریوں کو بھی جدید سفری سہولیات میسر آئینگی۔ صحافیوں کے مطالعاتی وفد کے اراکین نے قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اور گپ شپ لگاتے واپسی پر دریائے نیلم کنارے، کیرن میں محکمہ سیاحت کے خوبصورت ریسٹ ہائوس میں پڑائو کیا جہاں پہلے سے سیکرٹری سیاحت و آثار قدیمہ محترمہ مدحت شہزاد کی میزبانی میں پاکستان ہندو کونسل کا وفد بھی ڈاکٹر رمیش کمار کی قیادت میں پہنچ چکا تھا۔جہاں دریا کنارے شام ڈھلتے ہی صحافیوں نے ریسٹ ہائوس کی گرما گرم عمدہ چائے سے ٹھنڈے موسم میں اپنے آپکو نارمل کیا اور سیلفیاں و گروپ فوٹوبھی بنائے تھے کہ اسی اثناء میں دریائے جہلم کے پار مشرقی جانب مقبوضہ کشمیر کے گائوں کیرن کی دریا کنارے خوبصورت مسجد سے مغرب کی آذان کی آواز سن کر تمام خاموش ہوگئے اور بعض دوستوں نے آذان کی آواز کو موبائل فون پر ریکارڈ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اسے اپ لوڈ بھی کیا اور اسی آذان پر ریسٹ ہائوس کے خوبصورت سبزہ زار پر نماز مغرب بھی ادا کی ۔ وادی نیلم میں کیرن وہ واحد مقام ہے جہاں دریا کی چوڑائی بہت کم ہوجاتی ہے اور کیرن گائوں کی مسلمان آبادی تقسیم برصغیر کے دوران دو حصوں میں بٹ کر رہ گئی اور حالات کی ستم ظریفی کہیے یا بھارتی جبرو تسلط کے اثرات کی سنگینی کہ کیرن گائوں کے آر پارخوشی و غمی کے موقع پر وہ باہم مل کر مشترکہ طور پر اپنے جذبات و احساسات کا اظہار تو نہیں کر سکتے البتہ وہ دریائے نیلم کنارے کھڑے ہو کر باآواز بلند اپنے جذبات کا اظہار کرلیتے ہیں اور اس کے دوران بھی بھارتی درندے کئی بار انہیں اپنی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے خاموش کرانے کی کوشش میں رہتے ہیںاور یہ بڑا انسانی المیہ ہے۔ بہر حال صحافیوں کا وفد ٹور پروگرام کے مطابق رات کا کھانا تناول کر کے کٹن ریسٹ ہائوس میں رات قیام کیلئے روانہ ہوگیا۔ پاکستان ہندو کونسل کے عہدیداران نے عشائیہ سے قبل کیرن ریسٹ ہائوس میں صحافیوں سے ملاقات میں ضلع میرپور کے مندروں، گردواروں اور قلعوں کے بارے میں بھی تفصیلات معلوم کیں اور بالخصوص قلعہ رام کوٹ ، پرانے میرپور میں زیر آب آنے والے رگو ناتھ مندر اور گردوارہ علی بیگ کی حالت زار کے بارے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم جلد میرپور بھی آئیں گے اس موقع پر انہوں نے آزادکشمیر حکومت اور بالخصوص سیکرٹری سیاحت محترمہ مدحت شہزاد کی طرف سے اقلیتوں کے مقدس مذہبی مقامات کی بحالی و تزئین و آرائش کیلئے اقدامات کو سراہا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ رات کٹن ریسٹ ہائوس قیام کے بعد وفد نے جاگراں ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کی کٹن کالونی میںوادی نیلم کے قائمقام ایس پی احسان الحق ملک کے دیسی مرغوں کے پرتکلف ناشتے میں شرکت کی اور ماضی میں دوران صحافت میرپور میں انکی کٹھی میٹھی یادوں کے تذکرے اور محکمہ پولیس میں اے ایس آئی سے قائم مقام ایس پی بننے تک کے تجربات اور اہم واقعات سے خوب لطف اٹھایا۔ اس موقع پر انہوں نے سیاحتی حوالے سے بھی بریفنگ دی اور کہا کہ ضلع نیلم انتہائی پر امن علاقہ ہے اور یہاں کے عوام بھی پر امن ہیں جبکہ پولیس والے بھی سیاحوں کو نیلم میں بھرپور تحفظ اور سہولیات فراہم کرنے میں ان کی مدد میں پیش پیش رہتے ہیں اور اب آئی جی پی آزادکشمیر صلاح الدین محسود صاحب نے ٹورازم پولیس فورس بھی قائم کر کے سیاحوں کیلئے مزید آسانیاں پیدا کر دی ہیں ۔ کٹن کالونی کے خوبصورت اور وسیع و عریض ریسٹ ہائوس میں ملک احسان الحق کے پرتکلف ناشتے کے بعد ہم نے میرپور کیلئے رخت سفر باندھ لیا اورراستے میں سی یوجے ضلع نیلم کے جنرل سیکرٹری بنارس بلوچ کے ہاں مختصر قیام کے دوران انکے جواں سال بھائی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی اور بعدازاں مظفرآباد میں کچھ دیر رک کر سابقہ صدور آزادکشمیر میر واعظ مولوی محمد یوسف اور کے ایچ خورشید کے مزارات پر حاضری دی اور اپراڈاڈھکی مظفرآباد کے مشہور کشمیری کلچوں کی بطور تحفہ خریداری کے بعد کوہالہ میں دریائے جہلم کنارے کچھ دیر روایتی چارپائیوں پر انجوائے کرتے ہوئے واپس میرپور آگئے۔ اور اس طرح ہمارا مطالعاتی دورہ وادی نیلم بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا۔ اس میں شک نہیں کہ وادی نیلم جنت نظیر ہے لیکن سیاحوں کو مزید سہولیات دینے اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو آزادکشمیر بھر میں 57 سیاحتی مقامات کی تزئین و آرائش اور بہتری و ترقی دینے کے منصوبہ جات پر جلد سے عملدرآمد کو یقینی بنا کر سپریم کورٹ آزادکشمیر کے فل بنچ کے حکم کی تعمیل میں اقلیتوں کے مذہبی مقدس مقامات سمیت قلعوں، مساجد اور دیگر آثار ہائے قدیمہ کی مزید دریافتگی کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کے لیے حکومت آزاد کشمیر اور محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ نے جو تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں اس کے لیے یقینا چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء بھی مبارک باد کے مستحق ہیں، اس کے ساتھ ساتھ قدیم تاریخی آثار قدیمہ سے قبضہ مافیا کے قبضوں کو واگزار کرانے کے علاوہ سیاحوں کے قیام و طعام کے دوران انہیں خود ساختہ مہنگائی مافیا سے نجات دلانے اور زیادہ سے زیادہ معیاری ہوٹلز موٹلز کا اہتمام کرنے میں پیش رفت کرنی چاہیے۔ اس دورے کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ وادی نیلم میں ٹمبر مافیا اور قبضہ مافیا نے بھی اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں جو جنت نظیر خطہ کو جنگل کاٹ کاٹ کر ’’جہنم زار‘‘ بنانے میں مصروف ہیں جبکہ بیوروکریسی کے بعض کل پُرزوں نے بھی لینڈ مافیا میں شامل ہو کر ’’بہتی گنگا میں خوب اشنان ‘‘کیا ہے جس کے پیش نظر حکومت کو اپنی سیاحتی پالیسی کی کامیابی کیلئے ان اہم امور کی طرف بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔کیونکہ سیاحت کے فروغ سے حکومت کو اربوں کی آمدن ہوسکتی ہے اور سیاحتی مقامات والے علاقوں میں اردگرد کے رہنے والے ریاستی عوام کو بھی اس کے ثمرات میں شامل کر کے انہیں بھی خوشحال زندگی بسر کرنے کے قابل بناکر آزاد خطہ کو ایک رول ماڈل بنانے کا خواب پورا کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جنگلات کے بے دریغ کٹائو کو روکنے کیلئے حکومت کو فوری طور پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور آئے روز جنگلات کو آگ کی نذر ہونے سے بچانے کیلئے مناسب اقدامات اٹھانے چاہیں۔ کیونکہ آزادکشمیر قدرتی دولت سے مالا مال اور بے شمار قدیم تاریخی مقامات ہونے کے باوجود یہاں سیاحت کی صنعت کی شرح نمو مایوس کن حد تک کم ہے حالانکہ یہ صنعت معیشت کو سالانہ اربوں روپے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہر سال روایتی تہوار منائے جاتے ہیں مثلاً سپین کے شہر میڈرڈ میں ہر سال بیلوں کی دوڑ، چین ملائیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر کئی ممالک میں ہر سال کائٹ فیسٹیول، بھارت راجھستان میں اونٹوں کاسالانہ میلہ اور دیگر کئی ممالک میں بھی سیاحت ہی کے فروغ سے ملکی ترقی و خوشحالی کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چلایا جارہا ہے کیونکہ سیر و سیاحت دنیا کی سب سے زیادہ ترقی کرنیوالی صنعت ہے اور بیشتر ممالک میں بین الاقوامی سیر و سیاحت سب سے زیادہ زر مبادلہ کمانے اور ادائیگیوں کو توازن میں لانے کا ایک اہم عنصر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں