20

آزاد کشمیر ٹیکس چوروں کی جنت اور عملاً پاکستان کا پانامہ بنا دیا

میرپور(ظفر مغل سے) آزاد کشمیر میں حکمرانوں ،نوکر شاہی اور سیاستدانوں کی ’’ٹرائیکا‘‘ پر مشتمل کرپٹ مافیا نے اپنے بے نامی اثاثہ جات کو بچانے کی سازش کے تحت آزاد خطہ کو ٹیکس چوروں کی ’’جنت‘‘ اور عملاً پاکستان کا ’’پانامہ‘‘ بنا دیا ، پاکستان میں نافذ بے نامی ممنوعہ ٹرانز یکشن ایکٹ 2017؁ء کو آزاد کشمیر میں اڈاپٹ کیا نہ اسمبلی سے پاس کرایا اور نہ ہی صدارتی آرڈنینس یا ایگز یکٹو آرڈر سے نافذ کیا گیا ، 13ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں اختیارات کی آزاد حکومت کو منتقلی کے بعد محکمہ انلینڈ ریونیو میں براجمان ’’سیانوں ‘‘ نے ایسڈ ڈیکلریشن ایکٹ 2019 کو اسمبلی سے پاس کروا کر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نافذ کر تے ہوئے عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکلوانے کے منصوبے کے تحت بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کو صرف ایک دن اور پاکستان وآزادکشمیر میں اثاثے رکھنے والوں کو ایک ماہ کیلئے 31 جولائی کی مہلت دے دی گئی۔ عوام میں تشویش واضطراب کی لہردوڑ گئی ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بے نامی ممنوعہ ٹرانزیکشن ایکٹ 2017میں پاس کر کے بعدازاں مئی 2019میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم دیکر 30جون کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی جس کے بعد پاکستان بھر میں بے نامی اثاثہ جات ، جائیدادوں اور بینک اکائونٹ کو ضبط کرنے کے دیئے گئے ایک پورے میکنزم کے تحت ضبطگی کی کارروائیوں کا آغاز بھی کیا جاچکا ہے ۔ جبکہ بڑی تعداد میں غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات کو لوگوں نے ظاہر کر کے قانونی شکل دلاتے ہوئے اربوں کی بلیک منی کووائٹ منی میں تبدیل کروا لیا ہے علاوہ ازیں بے نامی جائیدادیں و اثاثہ جات کے معاملات سے متعلقہ اختیار سماعت کیلئے چیف کمشنر انلینڈ ریونیو کے مساوی چیئر پرسن ایڈ جو ڈی کیٹنگ اتھارٹی اور ایڈیشنل سیکرٹری کے مساوی دو ممبران پر مشتمل اتھارٹی اور ہائیکورت کے جج کی سربراہی میں ایپلٹ ٹربیونل کیساتھ دو ممبران پر مشتمل ٹریبونل اور دیگر کئی متعلقہ ادارے بھی قائم کیے گئے ہیں جبکہ بے نامی ٹرانزیکشن کے ذریعے دستاویزات ، زیورات ،نقدی اورپرائز بانڈ وغیر ہ کی ضبطگی کے اختیارات بھی متعلقہ تعینات افسران کو دیئے گئے ہیں اس کے برعکس آزاد کشمیر میں حکمرانوں ، بیورو کریٹس اور سیاستدانوں کی ٹرائیکا پر مشتمل کرپٹ مافیا نے اپنے بے نامی اثاثہ جات کو بچانے کے منصوبے کے تحت آزاد خطہ کو ٹیکس چوروں کی ’’جنت‘‘ اور پاکستان کا ’’پانامہ ‘‘ بنا دیا ہے کیونکہ پاکستان بھر میں نافذ بے نامی ممنوعہ ٹرانز یکشن ایکٹ 2017؁ء کو آزاد خطہ میں اڈاپٹ کیا گیا ہے نہ ہی قانون ساز اسمبلی سے پاس کرایا گیا اور نہ ہی صدارتی آرڈنینس یا ایگز یکٹو آرڈر سے نافذ کیا گیا بلکہ13ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں اختیارات کی آزاد حکومت کو منتقلی کے بعد محکمہ انلینڈ ریونیو میں براجمان ’’سیانوں ‘‘ نے اپنے اور ’’ ٹرائیکا‘‘ کے اثاثوں کو بچا کر عوام کو جیبوں سے اربوں روپے نکلوانے کے منصوبے کے تحت آزاد خطہ میں ایسڈ ڈیکلریشن ایکٹ 2019؁ء اسمبلی سے منظور کروا کر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نافذ کر تے ہوئے بیرون ملک اثاثہ جات رکھنے والوں کو صرف ایک دن اور پاکستان وآزاد کشمیر میں اثاثے رکھنے والوں کوا یک ماہ کیلئے 31جولائی تک کی مہلت دی گئی ہے آزادکشمیر میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 27جون کو اسمبلی سے پاس کروائی گئی اور 29جون کو فنانس ایکٹ 2019؁ء کے تحت ایسڈ ڈیکلریشن ایکٹ 2019؁ء کیلئے اسے آزاد کشمیر کے عوام پر نافذ کرتے ہوئے بیرون ملک اثاثہ جات کے ڈیکلریشن کیلئے 30جون تک صرف ایک دن کی مہلت دی گئی جبکہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں موجود اثاثہ جات ڈیکلیئرکرنے کیلئے 31جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی اور قرار دیا گیا کہ اس اسکیم کے تحت جمع کرایا گیا تمام ٹیکس نان ریفنڈ ایبل ہوگا ۔ جبکہ اس اسکیم میں ڈومیسٹک ٹیکس کی اصل رقم کا 31اکتوبر تک 10فیصد ، 31جنوری تک 20فیصد ، 30اپریل 2020؁،تک 30فیصد، 31جولائی تک40فیصد ،مقامی وفارن اکائونٹ میں موجود رقم پر 4فیصد، فارن ایسڈ مووایبل پر 4سے6 فیصد تک، پلاٹس ، لینڈ ،سٹریکچر اور فلیٹ کرایہ پر 1.5فیصد جبکہ اخراجات پر 4فیصد اور سیلریز پر 2فیصد شرح سے ٹیکس جمع کرانا رکھا گیا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ قانون نے پاکستان کی طرز پر بے نامی ممنوعہ ٹرانز یکشن ایکٹ 2019؁ء کا مسودہ تیار کیا گیاتھا مگر حکمران طبقہ ، بیورو کریٹس اور سیاستدانوں پر مشتمل’’ کرپٹ ٹرائیکا‘‘ نے ملی بھگت سے اسے اسمبلی میں پہنچنے سے پہلے ہی سرخ فیتے کی نذر کر دیا اور پاکستان کے بے نامی ممنوعہ ٹرانز یکشن ایکٹ 2017؁ء کو آزاد کشمیر میں اڈاپٹ کیا نہ ہی صدارتی آرڈنینس یا ایگزیکٹو آرڈ ر سے نافذ کیا اور نہ ہی آزاد کشمیر میں ایپلٹ ٹریبونل اور ایڈ جو ڈی کیٹنگ اتھارٹی اوردیگر متعلقہ اداروں کاقیام عمل میں لایاگیا ہے جبکہ پاکستان کی طرز پر نہ ہی سرچ اپریشن کے ذریعے کسی بھی مقام پر دستاویزات، زیورات ونقدی اور پرائز بانڈ زوغیرہ کی ضبطگی اور بے نامی اثاثہ جات کی تفتیش ،قرقی وضبط کرنے کیلئے کوئی قانون وضابطہ بنا کر نافذکیا گیا ہے جس سے آزاد کشمیر میں حکمرانوں ، بیورو کریٹس اور سیاستدانوں کی ٹرائیکا کے بے نامی اثاثہ جات کو تحفظ ملنے سے آزاد کشمیر ٹیکس چوروں کی ’’ جنت‘‘ اور عملاً پاکستان کا ’’پانامہ ‘‘ بن کر رہ گیا ہے جس سے محکمہ انلینڈ ریونیو میں قابض کرپٹ مافیا کے اندرون و بیرون ملک اربوں کے اثاثہ جات بھی فی الوقت محفوظ ہو گئے ہیں جس سے عوام میںتشویش واضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے اور آزاد کشمیرمیں کرپٹ ٹرائیکا سمیت انلینڈ ریونیو کی ’’شُتربے مہار‘‘ بیورو کریسی کا یہ طرز عمل وفاق میںکرپشن کا لگا م دینے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے والوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں