17

میرپورمحکمہ اوقاف میں قابض کرپشن کی کالی بھیڑوں نے مزارات مقدسہ کو بھی نہ بخشا

میرپور(ظفر مغل سے)آزاد کشمیر میں گڈ گورننس اور کرپشن کے خاتمہ کے دعوے ٹھس، محکمہ اوقاف میں قابض کرپشن کی کالی بھیڑوں نے مزارات مقدسہ کو بھی نہ بخشا، آزاد کشمیر کے سب سے بڑے دو مزارات برصغیر کی معروف روحانی شخصیت حضرت بابا پیرا شاہ غازی المعروف دمڑیاں والی سرکار اور رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخش کے امسال سالانہ عرس کے موقع پر راشن سپلائی اور ایل پی جی گیس کی مد میں دس لاکھ سے زائد کے جعلی بلات بنا کر سات لاکھ کا ایک بل ملی بھگت سے پاس کروا لیا جبکہ تین لاکھ سے زائد کے دوسرے بل پر نظامت اوقاف نے اعتراض لگا کر واپس دفتر اوقات میرپور ارسال کر دیا جبکہ متعلقہ ٹھیکیدار نے دونوں بلوں کے جعلی اور فرضی ہونے کی تصدیق کر دی۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں قائم ن لیگی حکومت خطہ میں گڈ گورننس قائم کرنے اور کرپشن کے خاتمہ کے آئے روز دعوے دہراتی رہتی ہے مگر آزاد کشمیرکی سطح پر میرپور شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام کھڑی شریف میں برصغیر کی معروف روحانی شخصیت حضرت بابا پیرا شاہ غازیؒ دمڑیاں والی سرکار اور سیف الملوک سمیت متعدد کتب کے مصنف رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخشؒ کے مزارات مقدسہ کو محکمہ اوقاف آزاد کشمیر میں قابض کرپشن کی کالی بھیڑوں نہ بخشا اور ان مزارات کو بھی اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہونے والی تفصیلات کے مطابق امسال شب برأت کے موقع پر برصغیر کی معروف روحانی شخصیت حضرت بابا پیرا شاہ غازیؒ دمڑیاں والی سرکار کے محکمہ اوقاف میرپور ڈویژن کے ناظم مقصود عباسی کی سربراہی میں قائم چار رکنی کمیٹی میں معاون ناظم اوقاف کھڑی شریف شامل ہیں کہ مشترکہ دستخطوں سے سات لاکھ روپے کا بل ٹھیکیدار راشن سپلائی کے جعلی وفرضی دستخطوں سے بغیر مہر کے بنا کر نظامت اوقاف مظفرآباد سے پاس کروا لیا گیا ہے جبکہ 9,8اگست 2019 کو رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخش کے سالانہ عرس مبارک کے موقع پر مقصود عباسی ناظم اوقاف میرپور ڈویژن کی چیئرمین شپ میں قائم چار رکنی کمیٹی کے دستخطوں سے راشن سپلائی اور ایل پی جی گیس کے دو الگ الگ بل مجموعی طور پر 3 لاکھ 21 ہزار 6 سو 68 روپے کا جعلی اور فرضی بل بھی نظامت اوقاف مظفرآباد کو ناظم اوقاف میرپور کے دفتر کے سٹاک رجسٹر کے صفحہ نمبر 313 پر درج کرتے ہوئے ارسال کیا گیا اسے نظامت دفتر نے اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا ہے اس سلسلے میں جب دربار عالیہ کھڑی شرف کے ٹھیکیدار راشن سپلائی نعیم یوسف سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں عرس مبارک کے موقع پر نہ تو انہوں نے راشن سپلائی کیا اور نہ ہی بلات پر دستخط کیے اس سلسلے میں جب متعلقہ ریکارڈ دفتر اوقاف سے حاصل کیا گیا تو اس پر ٹھیکیدار کے دستخط نادرا کے شناختی کارڈ سے مختلف تھے اور دستخطوں کے ساتھ ٹھیکیدار کی مہر بھی ثبت نہیں تھی اور نادرا کے ریکارڈ کے مطابق بھی بلوں پر ٹھیکیدار نعیم یوسف کے دستخط بھی جعلی اور فرضی ہونا ظاہر ہوئے ہیں اور اس طرح محکمہ اوقاف میں قابض کرپشن کی کالی بھیڑیں حضرت بابا پیرا شاہ غازیؒ کے سالانہ عرس پر جعلی وفرضی بل کے ذریعے سات لاکھ روپے چر گئی ہیں جبکہ رومی کشمیر کے عرس مبارک کے موقع پر بنائے جعلی وفرضی تین لاکھ روپے سے زائد بل نظامت اوقاف نے شک کی بنیاد پر اعتراض لگا کر واپس دفتر اوقاف میرپور بھیج دیا ہے جہاں سے بل واپسی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے دریں اثناء میرپور کے مذہبی،سماجی اور سنجیدہ فکر حلقوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر،وزیر اوقاف آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے اس کھلی کرپشن کی تحقیقات اور کرپٹ مافیا کی کالی بھیڑوں کیخلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں