34

مسئلہ کشمیر اور 21ویں صدی کا ہٹلر مودی

تحریر: ظفرمغل

دنیا کوخوفناک ایٹمی جنگ میںجھونکنے والے بھارتی تخت پر براجمان راشٹریہ سیوک سنگھ کے مسلم دشمن انتہا ء پسند اکیسویں صدی کے ہٹلر مودی نے رواں ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کی قرار دادوںجوا ہر لال نہرو کے عہد ، کشمیری عوام کی خواہشات اور عالمی برادری کے تحفظات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35Aکی خون آشام تلوار مہذب دنیابالخصوص تمام مسلمانوں اور مظلوم کشمیر ی عوام کے سینوں پر اس بے دردی سے چلائی ہے کہ دل مسلم تڑپ کررہ گیاہے اور اسطرح انسانیت کے قاتل کے روپ میں دوسری بار وزیراعظم بھارت بننے والے انتہاء پسند مودی نے گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام کے بعد نازی دور کی یاد تازہ کرتے ہوئے اب مقبوضہ وادی کشمیر جنت نظیر میں لاک ڈائون اورکرفیو نافذ کر کے جہنم زار میں تبدیل کر دیا ہے اور اس طرح مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو باضابطہ طو رپر بھارت میں ضم کر لیا ہے جس سے مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی راہ بھی ایک سازش کے تحت ہموارکر تے ہوئے لداخ کو بھی کشمیر سے الگ کر کے یہی حیثیت دے دی گئی ہے قبل ازیں بھارتی پارلیمنٹ کا کوئی قانون مقبوضہ کشمیر میں ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیرنافذنہیںہوسکتا تھا اورکوئی غیر کشمیری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید سکتا اورنہ ہی ملازمت اختیار کرسکتاتھا جبکہ جموں کشمیرکا اپنا آئین پرچم ہونے کے علاوہ ریاستی اسمبلی کو انتظامی امور کے اختیارات بھی حاصل تھے لیکن اب بھارتی گجرات کے انسانیت کے قاتل نما قصائی نے پورے خطے کو ایٹمی جنگ کے سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے جس کے جواب میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مودی کے انتہاء پسندانہ عزائم کشمیریوں کی نسل کشی کے منصوبے کو بھا نپتے ہوئے نہ صرف متفقہ قراردادپاس کروائی بلکہ آزادکشمیر قانون اسمبلی مظفرآباد کے اجلاس میں اپنے خطاب میں مود ی کو ہٹلر اور نازی دورکے پرچارک سے تشبیہ دیتے ہوئے واضح کیاکہ وہ پلوامہ جیسا ڈرامہ آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کیلئے رچانہ چاہتے ہیں لیکن اب انھیں سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کر کے مودی نے اپنا آخری کارڈ کھیل لیا ہے اور ہم نے آرمی چیف کو بھی اس منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کیلئے ہدایات دے دی گئیںہیں کیونکہ مودی نے ’’اسٹریٹیجک بلنڈر ‘‘ کرتے ہوئے پورے خطے کے امن وسلامتی کو دائو پر لگا دیا ہے اور اب میں دنیا کہ ہر فورم پر مظلوم کشمیریوں کی آواز اٹھانے والاسفیر بن گیا ہوں دوسری طرف آرمی چیف قمرجاوید باوجوہ نے بھی واضح کیا ہے کہ حالیہ بھارتی غیر قانونی اقدامات کشمیرکی ہیت تبدیل نہیں کرسکتے اور پاک فوج کشمیر پر قومی ذمہ داری پوری طرح نبھانے کیلئے ہر دم تیار وچوکس ہے ادھر وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی کے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی صدر جوانا رونیکا کو لکھے کے خطے کے جواب میں سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اور 10غیرمستقل ممبران کا بند کمرے میں ایک خصوصی اجلاس نیو یارک میں منعقدہوا جس میں اقوام متحدہ کے امن مبصرگروپ نے 70منٹ تک مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ممبران سکیورٹی کو نسل کو بریفنگ دی گوکہ اس اجلاس کا باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا البتہ اقوام متحدہ کی آفشیل ویب سائیٹ پر اجلاس کے متعلق جو بیان جاری کیا گیاہے اُس میں قراردیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو یواین چارٹراورسلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہونا ہے اور کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے جبکہ کشمیر عالمی امن اور سکیورٹی کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے اندر 1965کے بعد پہلی بار زیر بحث آیا ہے اورمقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ہمیں تشویش ہے عالمی سطح پرمقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کے اظہار کے بعد بھارتی انتہاء پسند نیتائوںنے بھی یوٹرن لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب اکبر الدین نے اقوام متحدہ میںسلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم 1971کے شملہ معاہدے کو تسلیم کرتے ہیں اور ہم کشمیرکے معاملے پر بات چیت کرنے کو تیار ہیں ، جبکہ چین کے مندوب نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں 50سال بعد مسئلہ کشمیر عالمی فور م پر زیر بحث آیا جس میں مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال اور اسکی خصوصی حیثیت سمیت اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق سابقہ 11 قراردادوں کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں ایک مرتبہ پھر کشمیرمتنازعہ علاقہ قرار دیا گیا ہے اورمقبوضہ کشمیر کے حالات کی سنگینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔ یہاںیہ امربھی حقیقت پرمبنی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 14اگست یوم آزادی کے موقع پر یوم یکجہتی کشمیر پاکستان وآزادکشمیر بھر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ایک ساتھ بھرپور طریقے سے مناتے ہوئے ریاستی اور قومی پرچم بھی ایک ساتھ بڑی تعدادمیںلہراے گئے او ربیرون ملک بھارتی سفارتخانوں سمیت اقوام متحدہ کے دفترکے سامنے بھی بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے پاکستان میں پرچم سرنگوں رہے اوربرطانیہ کی تاریخ میں اس موقع پرایک بڑا تاریخی اجتماع منعقدکر کے بھارتی اقدامات کی مذمت اور کشمیریوں پر ظلم کی سیاہ رات کے خاتمہ اور انھیں حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ دریں اثناء وزارت خارجہ اسلام آباد میں قائم کردہ کشمیرکمیٹی کے پہلے اجلاس میں وزار ت خارجہ میں کشمیر سیل اور بیرون ملک سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بتایا کہ پلوامہ طرز کے مس ایڈوانچرپر بھرپور کارروائی کرتے ہوئے آخری گولی اور آخری فوجی تک لڑنے کیلئے پاک فوج پرعزم ہے اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ایٹمی جنگ کی دھمکیوں کو گیدڑبھبھکی قرار دیتے ہوئے بھارت کواب کی باربھی سرپرائز دینے کے عزم کا اظہار کیا اور کہاکہ پاکستان نے کشمیریوں کی حمایت میں اعلیٰ عالمی فور م پر تاریخی معرکہ سر کر لیا ہے اور مسئلہ کشمیر پر سابقہ 11 قرار دادوں کی بھی تصدیق ہوگئی ہے جس سے بھارتی ظلم وجبر کی سیاہ رات جلدختم ہونے کی قوی امید ہے ۔ اس میں شک نہیںکہ بھارتی اقدامات ، دھمکیوں اور روزانہ کی بنیاد پر لائن آف کنٹرول سے ملحقہ سول آبادیوں پر فائرنگ وگولہ باری کے نتیجہ میں جنوبی ایشیاء میں ممکنہ جوہری تصادم کے نتیجہ میں ڈیڑھ ارب کی آبادی پر ایٹمی جنگ کے سائے منڈ لانے لگے ہیں اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق عالمی ماہرین کی رائے ہے کہ اس ممکنہ جوہر ی جنگ کے نتیجہ میں2 کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوسکتے ہیں اور جوہری ہتھیاروں کے معاملہ میں پاکستان کو بھارت پر برتری حاصل ہے اور ماہرین اس ممکنہ جنگ کو عالمی جوہری قحط کا نام دے رہے ہیں سویڈن کے تھنک ٹینک سپری کے مطابق رواں برس کے آغاز میں دنیاکے 9ممالک کے پاس 13865جوہری ہتھیار تھے ، جن میںبھارت کے پاس 130سے 140جبکہ پاکستا ن کے پاس 150جوہری وارہیڈز ہیں اور ممکنہ جنگ کے نتیجے میں 2 ارب سے زائدافراد فاقہ کشی کا شکار ہوسکتے ہیں اور درجہ حرات 4ڈگری تک گر جائے گا جسے معمول پر لانے کیلئے 25سال کا عرصہ درکارہوگا اور اس کے اثرات دنیابھرمیں ہوں گے ۔ دریں اثناء یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برصغیر کو انگریز تسلط سے آزادی حاصل ہونے کے وقت 15اگست 1947؁ سے ہی ڈوگرہ آمریت کا تسلط ساقط ہونے پر ریاست جموں وکشمیرکے اقتدار اعلیٰ کے حقوق جموں کشمیر کے عوام کو مل چکے ہیں جوا ب بھی بددستورقائم ہیں جن کی ضمانت اور تصدیق پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 257کی شکل میں موجود ہے لیکن قانون آزادی ہند کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندئوستان نے سابق ریاستی مہاراجہ ہری سنگھ سے فرضی اور جعلی الحاق نامے کی بنیاد پر ریاست میں اپنی افواج جارحیت کے انداز میں داخل کرتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام ، پاکستانی حکومت اور عالمی قوتوں کو یقین دہانی کرائی کہ ریاست میں مستقبل کے فیصلہ کا اختیار جموں کشمیر کے عوام کو حاصل ہے اور ریاست میں امن بحال ہوتے ہی تمام ہندئوستانی افواج نکا ل لی جائیں گی مگر اعلانات اوروعدوں کی نفی کرتے ہوئے ہندئوستان نے اپنے تسلط کو طول دینے اور مضبوط بنانے کی خاطر سکیورٹی کونسل میںپاکستان کیخلاف مقدمہ دائر کیا جس پر سکیورٹی کونسل نے اتفاق رائے سے قرار دیا کہ’’ ریاست جموں کشمیر آزاد مملکت ہے جسکے فیصلے کا اختیار صرف ریاستی عوام کو حاصل ہے اور فیصلہ کرنے سے قبل ریاست سے دونوں ممالک کی افواج کا انخلاء ہوگا‘‘ اور اب 50سال سے بھارتی انتہاء پسندوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنے کے باوجود غیر معقول حیلوں بہانوں سے فوجوں کے انخلاء کے مسئلہ کو طول دے کر اپنے تسلط (سٹیٹس کو ) کی شکل میں فوجوں کے انخلاء سے انحراف کرتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام کو زیر تسلط لاکر اب وادی کشمیر کو لاک ڈائون اورکرفیو کی نذرکرتے ہوئے ریاستی دہشت گردی کی انتہا کر دی ہے جس سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر اور ایٹمی جنگ کے بادل منڈ لانے لگے ہیں جس باعث امریکہ نے ثالثی کی پیشکش کی اور باہمی پاک بھارت تنازعات مل بیٹھ کر پر امن طو رپر حل کرنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ یہاں یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں موجودہ حکومت نے عمران خان کی قیادت میں امریکی صدر ٹرمپ سے گذشتہ ماہ میں ہونیوالی ملاقات میں ثالثی کی پیش کش سے لیکر تا حال جو پہلی مرتبہ تاریخی اقدامات اس مختصر عرصہ میں اٹھائے ہیں اس کیلئے کشمیر ی عوام یقینا ان کے شکر گزار ہوکر عمران خان کے اقدامات کو قابل تحسین قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہٹلر اور نازی ازم کے پیرو کارانتہاء پسند مودی اور اس کے سٹھیائے وزیر خارجہ خطے کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیلنے کیلئے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کوروزانہ کی بنیاد پر معمول بنائے ہوئے ہیں ۔ ایسے حالات میں حکومت پاکستان کو چاہیے کومظفرآباد کی نمائندہ عوامی حکومت نے جوا علامیہ 24اکتوبر ،1947؁ء کو جاری کرتے ہوئے بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کا جو عہدکیا تھا اس کے مطابق اس آزاد حکومت کو بااختیار بنا کر ریاست کی آزادی کی تحریک ، جدوجہد اور فیصلہ کے حل کیلئے ہندئوستان کے خلاف اقدامات کرنے کا مکمل اختیار دے اور اس آزاد حکومت کو ریاستی جائز حکومت تسلیم کر کے نمائندہ کی حیثیت سے سکیورٹی کونسل اور دیگر عالمی اداروں میں کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک کو ہر اول قائدانہ کردار ادا کرنے کا حق اور اختیار دینا چاہیے جبکہ حکومت پاکستان اور ڈپلو ٹیک کور آزاد حکومت کی قیادت کی راہنمائی ، معاونت اور حمایت بھرپور انداز میں کر کے ریاستی عوام کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت کی بنیاد پر آزادی حاصل کرنے میں اپنا قومی ، اخلاقی اور سیاسی فرض ادا کرے اوراسطرح کے مثبت اقدامات اٹھائے جانے سے گریز کی بجائے جموں کشمیر کے عوام کے عظیم نصب العین کے حصول میں برادرانہ کر دار موثر انداز میں ادا کرنا چاہیے اور یہ بھی امر واقع ہے کہ 5اگست 1958؁ء کو اتحاد تلاثہ کے تحت آزاد کشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان نے صدرآزاد جموں کشمیر مسلم کانفرنس ،سردارمحمد عبدالقیوم خان صدر آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس،ا ور جموں کشمیر لبریشن لیگ کے صدر کے ایچ خورشید نے اپنے مشترکہ دستخطوں سے آزاد کشمیر حکومت کو کشمیری عوام کی جائز عوامی نمائندہ حکومت تسلیم کر نے کا مطالبہ کیا تھا اور بانی پاکستان حضرت قائداعظم ؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری وسابق صدر آزاد کشمیر کے ایچ خورشید اپنی زندگی میں عمر بھر آزاد حکومت کوتسلیم کروا کر عالمی اداروں میں جانے کے نظریہ پر کار بند رہے اب جبکہ بھارت کے زیر تسلط ناگا لینڈ نے بھی علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اپنا یوم آزادی 14اگست اوربھارتی یوم آزادی 15اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منا لیا ہے اور دیگراقلتیں بھی انتہاء پسندہندئو تو اسے چھٹکارے کیلئے برسر پیکار ہیں جبکہ اکیسویں صدی کے ہٹلر مودی نے بھی وادی کشمیر کو مکمل طورپر فوجی چھائونی میں بدل کر قحط جیسی صورتحال پیدا کر کے مسئلہ کشمیر کو ایٹمی فلیش پوائنٹ بنا دیا ہے توبھارت کو بکھرنے اور ٹوٹنے کے اس ماحول میں حکومت پاکستان کے ذمہ داروںکو مزید آگے کی طرف بڑھنے میں مثبت اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ مودی بھی ہٹلر کی طرح اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ سکیں اور کشمیر بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی کی صبح طلوع ہوتی دیکھ سکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں