38

پانچ سال کے لئے اسمبلی رکنیت اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نا اہل قرار دیدیا

میرپور(ظفر مغل سے)آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ نے میرپور شہر کے حلقہ سے پہلی مرتبہ ممبر اسمبلی منتخب ہونیوالے ن لیگی حکومت کے وزیر امور منگلا ڈیم، ایم ڈی اے اور کھیل چوہدری محمد سعید کو توہین عدالت کے مقدمہ میں پانچ سال کے لئے اسمبلی رکنیت اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نا اہل قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیااور سینئر جج جسٹس سعید اکرم نے منگلا ڈیم کی سرکاری اور مفاد عامہ کی جگہ پر وزیر موصوف کے ناجائز قبضے کے خلاف دائر کردہ توہین عدالت کی ایک درخواست حاجی جاوید اکرم بنام چوہدری محمد سعید کے مقدمہ میں چار ماہ قبل فریقین کی تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیاتھا اور اب 51 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں 24 ستمبر 2024تک ن لیگی رہنما چوہدری سعید کو آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار دیدیا گیا ہے اور اس طرح وہ رواں سا ل کے آخر میں میرپور میں ہونے والے ضمنی الیکشن اور آئندہ آزاد جموں وکشمیر اسمبلی کے عام انتخابات 2021میں بھی بطور امیدوار حصہ لینے کے اہل نہیں رہے ہیں تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی میرپور کے ایک مقامی رہنما حاجی جاوید اکرم نے 5-10-18کو آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی ایک درخواست عنوانی حاجی جاوید اکرم بنام چوہدری محمد سعید دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزیر حکومت چوہدری سعید نے منگلا ڈیم کنارے واپڈا کے سرکاری رقبہ پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قبضہ کر رکھا ہے جو سپریم کورٹ کے صادر فیصلہ عنوانی محمد عظیم دت بنام راجہ خادم حسین کے مطابق توہین عدالت ہے اس مقدمہ کی چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء اور جسٹس راجہ سعید اکرم پر مشتمل بینچ نے سماعت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر میرپورسردار عدنان خورشید کو معاملہ کی نسبت حقائق اور ریکارڈ کی روشنی میں تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی جس پر ڈپٹی کمشنر نے عدالت میں اپنی تحریری رپورٹ میں وزیر حکومت کی طرف سے تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق دی کہ منگلا ڈیم کنارے موضع بڑبن میں ایک کنال آٹھ مرلے چار سرسائی رقبہ از قسم غی رممکن جھیل منگلا چوہدری محمد سعید کے زیر قبضہ اور تصرف میں ہے دوران سماعت سپریم کورٹ میں وزیر حکومت چوہدری سعید نے تجاوزات از خود گرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مختلف اوقات میں معزز عدالت سے غیر مشروط معافی بھی طلب کی انیس دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے وزیر حکومت چوہدری سعید ان کے بھائیوں اور عزیز واقارب کے زیر اہتمام قبضہ جگہوں کے بارے میں بھی ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جس پر ڈی سی میرپور سردار عدنان خورشید نے پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ چوہدری سعید نے پلاٹ نمبر 290 آزاد پٹرول پمپ، پلاٹ نمبر 65 آزاد میگا مارٹ اور پلاٹ نمبر A-64 ٹیوٹا آزاد موٹر سیکٹر ایف ون میرپور میں بھی تجاوزات کر رکھی ہیں جس پر ملزم مسؤل نے انتظامیہ کی طرف سے نشاندہی کرنے پر وہ از خود تمام تجاوزات مسمار کر دیں گے جس پر معزز عدالت نے ہر ماہ کی پندرہ تاریخ کو ملزم کی تجاوزات گرانے سے متعلق پراگس رپورٹ بھی ڈپٹی کمشنر کو عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس سعید اکرم نے 39 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں ملزم چوہدری سعید وزیر حکومت کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دیتے ہوئے پانچ سال کے لئے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دیدیا ہے جبکہ چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے اپنے 12 صفحات پر مشتمل نوٹ میں سینئر جج راجہ محمد سعید اکرم کے فیصلہ کیساتھ اتفاق کرتے ہوئے پندرہ نکات پر مشتمل کچھ اہم پہلوؤں پر قرارداد صادر کی ہے اس طرح مجموعی طور پر 51 صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اسلام میں کوئی درجہ بندی اور تفریق نہ ہے اور اس میں صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4410 کا حوالہ بھی دیا گیا اور لکھا گیا ہے کہ رتبے کے اعتبار سے کسی کو رعایت دینا بھی خلاف قانون ہے اور عین انصاف نہیں ہے اور کوئی وزیر قانون سے بالاتر نہیں ہے اس طرح عدالتوں کو تحفظ نہ صرف اس وقت دنیا میں نافذ دساتیر کے مطابق بلکہ قرآن وسنت اور شرعی نقطہ نظر سے بھی حاصل ہے اور وفاقی شرعی عدالت کے مکمل بینچ نے بھی متفقہ طور پر اس کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لینے کے بعد مطبوعہ فیصلہ پی ایل ڈی 1978ء SC200میں درج کیا ہے سپریم کورٹ نے اپنے طویل فیصلہ میں آئین پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 19 آزاد کشمیر کے عبور ی ایکٹ 1974ء کے آرٹیکل 4 کی ذیلی آرٹیکل 9 میں بنیادی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں