9

میرپورمیں زلزلہ متاثرہ علاقوں کے عوا م کیلئے آگاہی سیمینارکا انعقاد

میرپور( ظفر مغل سے) آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی میں فیکلٹی آف سائنس کے سابق ڈین اور ہائیڈ رو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے کنسلٹینٹ /ایڈوائز ر ڈاکٹر مرزا شاہد بیگ نے کہا ہے کہ انڈین اور یوریشین پلیٹس کے زمین کے اندر گہرائی میں ٹکرا کر زلزلے کے جھٹکے لگنے کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور زیر زمین دس سے سو کلو میٹر گہرائی تک چٹانوں کا ٹکرانا ایک قدرتی امر ہے جسے روکنا انسانوں کے بس میں نہیں البتہ حکومت اور متعلقہ اداروں سمیت عوام بھی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ارتھ کوئیک سے متعلق جدید تعلیم کے حصول اور بلڈنگ کوڈ کے مطابق تعمیرات کو یقینی بنا کر جانی ومالی شدید نقصان کو کم سے کم کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ لیکن پاکستان اور آزا دکشمیر کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے 8اکتوبر 2005کے قیامت خیز زلزلہ سے سابق سیکھنے کی بجائے مظفرآباد اور بالا کوٹ میں متعلقہ ماہرین کی سروے رپورٹوں میں واضح نشاندہی کے باوجود زلزلہ کی ایکٹو فالٹ لائن کے ریڈزون میں بھی دوبارہ تعمیرات کر کے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو غیر محفوظ بناتے ہوئے پٹواری کلچر کو تبدیل کرنے کی جرات تک نہیں کی جبکہ ضلع میرپور سموال شریف، جڑی کس اور نہر اپر جہلم جاتلاں سے ملحقہ علاقوں کے شیلوارتھ کوئیک کی لائن آف ایکٹو فالٹ کے زلزلہ مرکز جہلم کے دونوں کناروں پر آباد شہر میرپور کو منگلا ڈیم کنارے قریبی آبادیوں کو 24ستمبر2019کے زلزلہ نے اپنی لپیٹ میں لیکر شدید مالی وجانی نقصان کیا ہے حالانکہ 2006اور 2009میں جیالوجسٹ نے میرپور ضلع میرپور پہاڑی سلسلوں اور ایکٹو فالٹ لائن جڑی کس سموال شریف جاتلاں سمیت نیوسٹی میرپور میں بھی مستقبل میں زلزلے کی تباہ کاریوں سے زیادہ سے زیادہ بچنے کیلئے بلڈنگ کوڈ کی پابندی پر عمل درآمد اور عمارات کی تعمیرات سے قبل متعلقہ پروفیشنلز سے جیو میٹری رپورٹ کی پابندی لگانے کی سفارشات پر مبنی رپورٹ حکومت آزاد کشمیر کو دے چکے ہیں مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ریجنل کیمپس میرپور کے زیر اہتمام ایچ ڈی آئی پی کے تعاون سے میرپو رمیں زلزلہ متاثرہ علاقوں کے عوا م کیلئے آگاہی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میرپور کے ریجنل ڈائریکٹر فیصل شہزاد شیخ، چیئرمین تعلیمی بورڈ میرپور شاہد منیر جرال، پروفیسر مرزا مجاہد حسین اور پروفیسر محمد صغیر آسی پرنسپل گورنمنٹ انٹر کالج کلیال میرپور نے بھی خطاب کیا۔جبکہ سیمینار میں جامع کوٹلی کے وائس چانسلر پروفیسر غلام غوث،ایچ ڈی آئی پی کے ڈی جی ڈاکٹر محمد اعظم خان، ڈاکٹر شامی، ڈاکٹر شاہینہ طارق، ڈاکٹر ثمینہ، کنٹری ڈائریکٹر فیصل شہزاد او رمنیجنگ پارٹنرمرزا ناصر علی، گورنمنٹ کالج میرپو رکے پرنسپل پروفیسر نذر حسین چوہدری، مسٹ کے سابق رجسٹرار پروفیسر محمد ریاض مغل، وزیراعظم آزاد کشمیر کے سابق پریس سیکرٹری ظفر مغل، ریڈیو پاکستان میرپو رکے ڈائریکٹر چوہدری محمد شکیل، پروڈیوسرملک بشیر مراد، حنیف شہید گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کلیال میرپور کی ایڈمسٹریس نعمت جمیل اور سول سوسائٹی کی متعدد شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر میرپو رکے شہریوں کی طرف سے چیئرمین تعلیمی بورڈ شاہد منیر جرال نے ڈاکٹر مرز ا شاہد بیگ کو سونیئر پیش کیا۔ سیمینار سے خطا ب کرتے ہوئے پاکستان کے معروف جیالوجسٹ ڈاکٹر مرزا شاہد بیگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرپور میں زیر زمین لاواپھٹنے کی سوشل میڈیا پر افواہوں پر عوام کو کان نہیں دھرنے چاہئیں البتہ گرم پانی اور گیسز کا اخراج زلزلہ متاثرہ علاقوں میں خراج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ حکومت سمیت زلزلہ سے متعلقہ اداروں اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ فالٹ زون ایریازاور ریڈ زونز میں زیادہ جانی ومالی نقصان سے بچنے کیلئے زمین کی بھرائی وکٹائی والی جگہوں اور لینڈ سلائیڈز کے قریب بغیر جیو میٹری کرائے اور بلڈنگ کوڈز پر عملدرآمد کو یقینی بنائے بغیر تعمیرات نہیں کرنی چاہئیں اورایسے علاقوں میں زلزلہ پروف گھر صرف سنگل سٹوری ہی تعمیر کرنے چاہئیں جبکہ شیلو ارتھ کوئیک، ریڈ زونز اور ایکٹو فالٹ لائن ایریاز میں پروفیشنل سے سٹڈی کروائے بغیر تعمیرات بھی ہر گز نہیں ہونی چاہئیں اسی طرح زلزلہ متاثرہ علاقوں کے عوام کے بھی اپنے رہن سہن اور طرز زندگی کو تبدیل کرتے ہوئے ایڈھاک ازم کا شکار نہیں ہونا چاہیے تاکہ مستقبل کی نسلوں کو محفوظ بنایا جاسکے انہوں نے کہا کہ زلزلہ نے انسانوں کی جان نہیں لی بلکہ ناقص اور غیر معیار ی اور بلڈنگ کوڈ کے بغیر تعمیرات نے انسانی جانوں کی ضیاع کیا ہے جس کی طرف حکومت اور متعلقہ اداروں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اور ترقیاتی اداروں ہائی وے، پی ڈبلیو ڈ اور ٹاؤن پلاننگ سے متعلق اداروں میں پاکستان وآزاد کشمیر کی حکومتوں کو چاہئیں کہ وہ جیو لاجیکل کے تکنیکی ماہرین کی تعیناتیاں عمل میں لائیں اور زلزلہ کے ایکٹو فالٹ زون، ریڈ زونز اور شیلو ارتھ کوئیک ایریاز میں تعمیرا ت کے نقشہ جات کی منظوری کو جیو لاجیکل سٹڈی، جیو میٹری اور بلڈنگ کوڈ سے مشروط کریں اور تعمیرات کی مانٹرنگ کو بھی ضروری قرار دیا جائے اور پبلک مقامات پر زلزلہ کے الارمنگ سسٹم نسب اور جی پی ایس اسٹیشن قائم کیے جائیں جبکہ ایف ایس سی اور بی ایس سی کی سطح پر قدرتی آفات کے بارے میں کورسز متعارف کروائے جائیں اور عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی مہم پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت عوام اپنی جان ومالی کی حفاظت کو یقین بنانے کیلئے اقدامات اُٹھا سکیں انہوں نے کہا کہ آبادیوں کے درمیان زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کثیرمنزلہ عمارتوں پر موبائل ٹاورز اور ہورڈنگ وبل بورڈ بھی نہیں چاہئیں تاکہ ان احتیاطوں کے ذریعے زلزلہ اور آفٹر شاکس کی صورتحال میں قریبی آبادیوں میں کم سے کم جانی ومالی نقصان ممکن ہوسکے اسی طرح ہائی سکولوں کی سطح پر طلباء وطالبات کو نہروں ڈیمز ندی نالوں، ریڈ زونز ایکٹو فالٹ لائن اور شیلو ارتھ کوئیک ایریاز میں لینڈ سلائیڈنگ کے قریب تعمیرات کرنے کے نقصانات بارے آگاہی پروگرام منعقد کرنے چاہئیں اور طلباء کو شارٹ کورسز کے ذریعے بھی زلزلوں اور قدرتی آفات سے متعلق خصوصی آگاہی تعلیم متعارف کروانی چاہیے جبکہ این ڈی ایم اے اور ایس ڈی ایم اے کو میرپور سمیت دیگر زلزلہ علاقوں میں سیسمک نیٹ ورک، مانیٹرنگ اور میپنگ بھی کروانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ منگلا ڈیم اپ ریزنگ سے ڈیم میں پانی کا دباؤبڑھنے سے حفاظتی بندکی مضبوطی اور سیفٹی فیکٹر کا سروے بھی کروایا جانا چاہیے تاکہ متعلقہ ادارے اور انتظامیہ عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنا کر اُن میں پائی جانے والی تشویش کا ازالہ ممکن بنا سکیں اور اس سلسلے میں جیالوجسٹ قومی مفاد میں متعلقہ اداروں سے ہر ممکن تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں